28 ستمبر 2026 - 11:10
ٹرمپ کی گستاخیاں اقوام متحدہ کے منشور کے خلاف ہیں:ایران

اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے نے سلامتی کونسل کے صدر اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو خط لکھ کر ایران کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایران کے سفیر و ناظم الامور غلام حسین درزی نے اپنے خط میں کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے ایران کو تباہ کرنے کی دھمکیاں محض سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے منافی ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ 22 ستمبر 2026 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کے دوران امریکی صدر نے اسی فورم سے، جو عالمی امن اور تعاون کے لیے قائم کیا گیا ہے، ایران کو تباہ کرنے کی کھلی دھمکی دی۔

ایرانی نمائندے کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ وہ اسلامی جمہوریہ کو تباہ کر دیں گے  اور یہ کام تیزی سے کریں گے، جبکہ انہوں نے ایران کو بقا کے کسی امکان کے بغیر ختم کرنے کی بھی دھمکی دی۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ بیانات کوئی مبہم یا غیر معمولی بات نہیں بلکہ ایران کے خلاف امریکی صدر کی مسلسل علانیہ دھمکیوں کا حصہ ہیں، جبکہ امریکا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کی بنیادی ذمہ داری رکھنے والا ملک ہے۔

ایران نے اپنے خط میں ٹرمپ کی جانب سے 22 مارچ، 30 مارچ، 6 اپریل اور 7 اپریل 2026 کو ایران کے بجلی گھروں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے، پانی صاف کرنے کے مراکز، پلوں اور دیگر تنصیبات کو تباہ کرنے کی دی گئی دھمکیوں کا بھی حوالہ دیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ 7 اپریل کو امریکی صدر نے مزید کہا تھا کہ ’’ایک مکمل تہذیب آج رات تباہ کر دی جائے گی، جو انتہائی سنگین اور تشویش ناک معاملہ ہے، کیونکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کسی ملک کی تباہی کی دھمکیاں دینے کا فورم نہیں ہے۔

ایرانی نمائندے نے واضح کیا کہ معاملہ محض سیاسی الفاظ یا بیان بازی تک محدود نہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک خودمختار رکن ملک کو کھلے عام تباہ کرنے کی دھمکی، خصوصاً ایسے حالات میں جب ایران کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مسلسل جارحانہ اقدامات اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں، براہِ راست بین الاقوامی امن و سلامتی کے بنیادی اصولوں سے متعلق ہے۔

خط میں خبردار کیا گیا کہ عالمی برادری کی خاموشی ایسی دھمکیوں اور جرائم کو معمول کا حصہ بنانے کا باعث بن سکتی ہے اور اقوام متحدہ کے منشور کی اتھارٹی کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

ایران نے ساتھ ہی کہا کہ یہ دھمکیاں محض خیالی دعوے ہوں یا نہ ہوں، ایرانی عوام اور مسلح افواج کی مزاحمت اور دفاعی عزم کے سامنے کبھی عملی شکل اختیار نہیں کر سکیں گی۔

خط کے آخر میں اسلامی جمہوریہ ایران نے کسی بھی مزید جارحیت کے خلاف اپنے مکمل اور ناقابلِ تنسیخ حقِ دفاع کو محفوظ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایرانی عوام کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصانات کے ذمہ دار ریاستوں اور افراد کے خلاف تمام دستیاب قانونی ذرائع سے جواب دہی کے حصول کا حق بھی محفوظ رکھتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha